ٹرمپ کی پریس کانفرنسمقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان،اسرائیل کا خیر مقدم،بڑا اعلان کردیاگیا،ترکی نے جواب میں بڑا قدم اُٹھالیا – اردو ٹاک

واشنگٹن/مقبوضہ بیت المقدس (آئی این پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے امریکی صدرکے فیصلے کوتاریخی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی امن معاہد ے میں یروشلم بطوراسرائیلی دارالحکومت شامل ہوگا،دوسرے ممالک بھی امریکا کی طرح اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کریں۔

غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیااور کہا کہ کچھ امریکی صدور نے کہا کہ ان میں سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی ہمت نہیں لیکن بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے’۔امریکی صدر نے اپنے متنازع فیصلے کے اعلان کے دوران کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔انھوں نے کہا کہ مشرق وسطی کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کے لیے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے امریکی صدرکے فیصلے کوتاریخی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی امن معاہد ے میں یروشلم بطوراسرائیلی دارالحکومت شامل ہوگا،دوسرے ممالک بھی امریکا کی طرح اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کریں۔خیال رہے کہ اس فیصلے سے قبل فلسطینی حکام کے علاوہ ترکی، پاکستان، ایرانی سمیت مسلم دنیا کی جانب سے امریکا کے ممکنہ متنازع فیصلے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔پاکستان کے وزیراعظم ہاؤ س کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘امریکا کی جانب سے اس طرح کے اقدام سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔بیت المقدس کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ ‘مقدس شہر القدس الشریف کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کردے گا۔امریکی متنازع فیصلے کے حوالے سے وزیراعظم ہاس کا کہنا تھا کہ ‘اس اقدام سے مسئلے پر دہائیوں سے موجود عالمی اتفاق رائے کو نقصان پہنچائے گا اور خطے میں پائیدار امن کے کسی بھی عمل کو ختم کرنے سمیت خطے کی سلامتی کو بھی زک پہنچائے گا’۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے حوالے سے خبروں کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان اس معاملے پر او آئی سی کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے حتمی فیصلے کی توثیق کرتا ہے’۔ترک صدر رجب طیب اردوگان نے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے معاملے پر سنجیدگی سے گفت وشنید کا مطالبہ کیا تھا اور امریکی فیصلے کو یکسر مسترد کردیا تھا۔حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم اس طرح کے اقدام کے حوالے سے خبردار کرتے ہیں کہ اگر بیت المقدس سے متعلق کوئی ظالمانہ فیصلہ اپنایا گیا تو فلسطینی عوام سے انتفاضہ بحال کرنے کا مطالبہ کریں گے۔بعد ازاں صدرمحمود عباس نے اپنے بیان میں اس فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالخلافے کے طور پر قبول کرنا یا بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے حوالے سے کوئی قدم سے ‘خطے میں امن کے مستقبل کے لیے خطرات بڑھیں گی اور یہ ناقابل قبول ہے’۔دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم یا بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی یا دبا اور طاقت کے استعمال کو غیر قانونی قرار دینے اور اس سے گریز کرنے کے حوالے سے اسرائیل مخالف قرار داد پیش کی گئی تھی۔یہ قرار داد ان رپورٹس کے بعد ہی پیش کی گئی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس قرار داد کے حق میں سب سے زیادہ 151 ریاستوں نے ووٹ دیا جبکہ 6 ریاستوں امریکا، کینیڈا، مائیکرونیزیا کی وفاقی ریاستوں، اسرائیل، جزائر مارشل، ناورو نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔اس کے علاوہ 9 ریاستوں آسٹریلیا، کیمرون، وسطی جمہوری افریقہ، ہونڈراس، پاناما، پاپوا نیو گنی، پیراگوائے، جنوبی سوڈان اور ٹوگو نے قرارداد پر ووٹ دینے سے گریز کیا تھا۔

The post ٹرمپ کی پریس کانفرنسمقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان،اسرائیل کا خیر مقدم،بڑا اعلان کردیاگیا،ترکی نے جواب میں بڑا قدم اُٹھالیا appeared first on JavedCh.Com.



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں